بجٹ تقریر کا خلاصہ ، چیدہ چیدہ نکات ـ

بجٹ تقریر کا خلاصہ ، چیدہ چیدہ نکات ـ
سیگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا دی گئی۔
آئل فیلڈ، ویئر ہاؤس پر ود ہولڈنگ ٹیکس 8 سے کم کر کے 3 فیصد کردیا گیا۔
سی پیک کے نئے منصوبے 28 ارب ڈالر کے ہونگے۔
سی پیک میں 26 مزید منصوبے تجویز
چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 13 ارب ڈالرز کی مالیت کے 17 پراجیکٹ مکمل
سی پیک میں 21 ارب ڈالرز مالیت کے 21 منصوبے جاری
فلاحی اداروں کو غیر مشروط ٹیکس سے چھوٹ دی جائیگی
کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کی جا رہی ہے۔
افراد اور اداروں کی مد ميں ٹرن اوور ٹيکس 100 ارب کرنے کا اعلان
اسپيشل اکنامک زون کیلئے ٹرن اوور ٹیکس بھی ختم
گاڑیوں پر سيلز ٹيکس کو 17 فيصد سے کم کرکے ساڑھے 12 فيصد کرنے کا اعلان۔
فضائی سفر، ڈيبٹ کريڈٹ کارڈ اور معدنيات کی تلاش پر بھی ودہولڈنگ ٹيکس نہيں ہوگا۔
بينک سے رقم نکلوانے، اسٹاک مارکيٹ اور مارجن فائنانسنگ پر ودہولڈنگ ٹيکس کا خاتمہ
ايک ارب 10 کروڑ ڈالر ويکسين کی درآمد پر خرچ کریں گے۔
کرونا ایمرجنسی فنڈ کیلئے 100 ارب روپے تجويز۔
ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے 10 ارب اضافے کے ساتھ 480 ارب روپے مختص
مختلف شعبوں کیلئے سبسڈی کی مد میں 501 ارب روپے رکھنے کی تجویز
سبسڈی کا 30 فیصد پاور سیکٹر کیلئے رکھا جائے گا
بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کیلئے ایک سال تک کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے
حکومت کا شہری گھرانوں کو قرض فراہم کرنے کا اعلان
حکومت کا نئے ٹیکس قوانین متعارف کرانے کا اعلان
ٹیکس گزاروں کو ہراساں کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی
حکومت کا بجٹ ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کرنیکا اعلان
ہر گھرانے کے ایک فرد کو مفت ٹیکنیکل ٹریننگ دی جائے گی۔
بجٹ 22-2021ء: 850 سی سی گاڑیوں پر ایکسائز ڈیوٹی ختم۔
مقامی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کم کرنے کا اعلان
مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 7 ہزار 909 ارب روپے مقرر
ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 829 ارب جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2 ہزار 80 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
کراچی ٹرانسفارميشن پلان کيلئے 739 ارب روپے مختص کئے ہیں۔
پبلک پرائيويٹ پارٹنر شپ کے تحت 2 ہزار ارب کے 50 منصوبے بھی بجٹ کا حصہ۔
ایم ایل ون مںصوبے کو 3 مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔
کے ون، کے فور اور تربيلا منصوبے کيلئے 16ارب رکھے گئے ہیں۔
ہر کاشتکار کو ہر فصل کيلئے ڈيڑھ لاکھ روپے بلا سود قرض ملے گا
ترقياتی بجٹ 630 ارب سے بڑھا کر 900 ارب کردیا گیا
زيادہ منافع بخش پروجيکٹ ميں سرمايہ کاری کریں گے
ديامر اور بھاشا ڈيم کيلئے 23 ارب روپے رکھے گئے ہيں۔
پانی کے بحران سے نمٹنے کيلئے 10 سالہ منصوبہ بندی کرلی
آبی تحفظ کيلئے مجموعی طور پر 92 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
بجلی کے منصوبوں کيلئے 118 ارب روپے مختص۔
پی ايس ڈی پی کی مد ميں 118 ارب مختص، صوبوں کو 25 فیصد اضافی رقم فراہم کی جائے گی۔
داسو ہائيڈرو پاور منصوبے کيلئے 57 ارب روپے مختص کئے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ مکانات کی کمی ہے۔
آئی ايم ايف جانے سے بچنے کيلئے برآمدات بڑھانا اہم ہے۔
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 8 ہزار487 ارب روپے ہوگا۔
مجموعی ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف7909ارب روپے مقرر کیا ہے۔
این ایف سی کے تحت صوبوں کو 3 ہزار 412 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔
وفاقی حکومت کے پاس اپنا بجٹ چلانے کیلئے صرف4497 ارب روپے بچیں گے۔
اگلے سال ہر گھرانے کو صحت کارڈ فراہم کيا جائے گا۔
فی کس آمدنی ميں 15 فيصد اضافہ ہوا۔
اس سال برآمدات ميں 14 فيصد اضافہ ہوا۔
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو پاليا گيا۔
ترسيلات زر ميں ريکارڈ اضافہ ہوا۔
زرمبادلہ کے ذخائر 3 ماہ سے زيادہ درآمدات کيلئے کافی ہيں۔
بیس ارب روپے ترقیاتی پراجیکٹ کیلئے رکھے گئے ہیں۔
ہر کاشتکار کو ہر فصل کيلئے ڈيڑھ لاکھ روپے بلا سود قرض ملے گا۔
ترقياتی بجٹ 630 ارب سے بڑھا کر 900 ارب کردیا گیا
زيادہ منافع بخش پروجيکٹ ميں سرمايہ کاری کریں گے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر خزانہ شوکت آج بروز جمعہ 11 جون کو قومی اسمبلی میں 8 ہزار ارب کا بجٹ پیش کررہے ہیں جس میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کیلئے 900 ارب روپے اور دفاع کیلئے ایک ہزار 330 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published.