Urdu News

گلشن اقبال ٹائون میں سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس اور سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں

غیر قانونی تعمیرات عروج پر، ملٹی اسٹوریز بلڈنگز نے علاقے میں پارکنگ کے مسائل، مین روڈ پر ٹریفک جام معمول بن گیا

کچی آبادی میں بھی ملٹی اسٹوری بلڈنگز تعمیر،ایس بی سی اے کا عملہ بھاری رشوت لیکر خاموش تماشائی بن گیا،کچی آبادی میں غیر قانونی تعمیرات پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ ایکشن لینے سے قاصر

کراچی(رپورٹ٭ایم اے ساحل)گلشن اقبال ٹائون میں سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں،غیر قانونی تعمیرات عروج پر، ملٹی اسٹوریز بلڈنگز نے علاقے میں پارکنگ کے مسائل، مین روڈ پر ٹریفک جام معمول بن گیا،کچی آبادی میں بھی ملٹی اسٹوری بلڈنگز تعمیر،ایس بی سی اے کا عملہ بھاری رشوت لیکر خاموش تماشائی بن گیا،کچی آبادی میں غیر قانونی تعمیرات پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ ایکشن لینے سے قاصر،تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال ٹائون میں سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں،غیر قانونی تعمیرات عروج پر، ملٹی اسٹوریز بلڈنگز نے علاقے میں پارکنگ کے مسائل پیدا کر دیئے، جس کی وجہ سے مین روڈ پر ٹریفک جام معمول بن گیا کچی آبادی میں بھی ملٹی اسٹوریز بلڈنگز تعمیر ہورہی ہیں جس پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ ایکشن نہیں لے رہے، .1پلاٹ نمبرA-101+102گلشن اقبال بلاک 13-Dضلع شرقی کراچی میںرہائشی پلاٹ پر چار منزلہ فلیٹ ٹائپ یونٹ تعمیر کئے جارہے ہیں،علاقہ کچی آبادی کا حصہ ہونے کے باوجود یہاں کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر باعث تشویش ہے ،پلاٹ نمبرR-5بلاک 13.2 ڈی گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی پر رہائشی پلاٹ پر چار منزلہ فلیٹ ٹائپ یونٹ تعمیر کئے جارہے ہیں،علاقہ کچی آبادی کا حصہ ہونے کے باوجود یہاں کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر باعث تشویش ہے ، A-80.3 بلاک 13ڈی ون دو منزلہ ملٹی یونٹ رہائشی پلاٹ پر تعمیر ہورہے ہیں،جو کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے،.4پلاٹ نمبرA-49بلاک 13-D-1گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںغیر قانونی طور پر رہائشی پلاٹ پر فلور ڈال کر فلیٹ یونٹس بنائے جارہے ہیں اور مسلسل غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں،.5پلاٹ نمبرA-7بلاک 13/D-2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںرہائشی پلاٹ پر تیسرا فلور غیر قانونی طور پر ڈالا جارہاہے جس میں ملٹی یونٹس ہیں ،.6پلاٹ نمبرR-31بلاک 13-Dگلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںرہائشی پلاٹ پر غیر قانونی طور پر تین منزلہ ملٹی یونٹس تعمیر کر دیئے گئے ہیں،.7پلاٹ نمبر1-47بلاک 13/Dگلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںدو منزلہ غیر قانونی طور پرملٹی یونٹ تعمیرات کی گئی جبکہ تیسرا فلور زیر تعمیر ہے،.8پلاٹ نمبرA-90بلاک 13/Dگلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںدو منزلہ غیر قانونی طور پرملٹی یونٹ تعمیرات کی گئی جبکہ تیسرا فلور زیر تعمیر ہے،.9پلاٹ نمبرA-88بلاک 13-Cگلشن اقبال ضلع شرقی کراچی،میںغیر قانونی طور پرملٹی یونٹ تعمیرات کی گئی جبکہ تیسرا فلور زیر تعمیر ہے،جبکہ ملٹی اسٹوریز بلڈنگ میں.1ایف ایل 2بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی (چیس اپ میں غیر قانونی طور پر سڑک بلاک کی ہوئی ہے جس کی بابت سپریم کورٹ آرڈر کر چکی ہے،اس بلڈنگ میں بیسمنٹ جو کہ پارکنگ کیلئے مختص تھی اسے گودام بنایا گیا ہے).2سی 6بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(کنگز اسکائی نامی دس منزلہ غیر قانونی عمارت میں ایس بی سی اے نے پانچ شوروم پاس کئے تھے مگر تقریبا سو سے زائد دکانیں تعمیر کی گئی ہیں،جبکہ قوانین کے مطابق دکان کا سائز 10×10ہونا چاہئے بلڈرز نے افسران سے مل کر دکان کے سائز چھوٹے کر دیئے اور موبائل مارکیٹ بنا دی ہے).3سی 8بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(گلیکسی موبائل مارکیٹ نامی دس منزلہ غیر قانونی عمارت میں ایس بی سی اے نے پانچ شوروم پاس کئے تھے مگر تقریبا سو سے زائد دکانیں تعمیر کی گئی ہیں،جبکہ قوانین کے مطابق دکان کا سائز 10×10ہونا چاہئے بلڈرز نے افسران سے مل کر دکان کے سائز چھوٹے کر دیئے اور موبائل مارکیٹ بنا دی ہے).4سی 7بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(تین منزلہ غیر قانونی عمارت بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کے تعاون سے بغیر نقشے کے بنائی گئی ہے جس میں 125سے زائد دکانیں تعمیر کی گئی ہیں اور اسے بھی موبائل مارکیٹ بنایا گیا ہے).5سی 9بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(چار منزلہ پرانی عمارت پر غیر قانونی طور پر بیسمنٹ اور گرائونڈ فلور پر سو سے زائد دکانیں بنا کر موبائل مارکیٹ کھول دی گئی ہے جس کا نام فریحہ موبائل مال رکھا گیا ہے.6سی 12بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(گیارہ منزلہ عمارت کی تعمیر میں قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے موبائل مارکیٹ آئی ڈیل کے نام سے بنائی گئی ہے جس میں سو سے زائد دکانیں بنائی گئی ہیں جبکہ عمارت کی تعمیر نقشے کے برعکس کی گئی ہے).7سی 13بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(بارہ منزلہ عمارت جس میں ایک فلور غیر قانونی ہے اور پانچ دکانیں نقشے کے مطابق بنانی تھیں مگر ڈیڑھ سو سے زائد دکانیں بنا چکا ہے اور مزید زیر تعمیر ہے)کثیر المنزلہ عمارات کے باعث ٹریفک جام روز کا معمول ہے،؛ معزز عدلیہ بار بار غیر قانونی تعمیرات کے لئے اپنے فیصلوں میں انہدامی، سیل و سربمہر کی کاروائیوں کا حکم نامہ جاری فرما چکی ہے جبکہ محکمہ جاتی کاروائیاں بھی کی جاتی ہیں ، لیکن چند منٹوں یا گھنٹوں کے بعد تعمیراتی کام دن رات میں اور تیزی سے مکمل کردئیے جاتے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ جو افراد ان غیر قانونی پورشنز ، یونٹس کی بکنگ کرواتے ہیں جان بوجھ کر ان میں رہائش کرلیتے ہیں بعد از ان عدالتی احکامات پر بلاوجہ احتجاج کرنے پر اتر آتے ہیں اور عورتوں اور بچوں کو سڑکوں پر لے آتے ہیں، جبکہ منہدم ہونے والی بلڈنگز کے بارے میں سب کچھ جان کر بھی نادان بن جاتے ہیں، گلشن اقبال بلاک 2 میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین،جس کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979(سندھ آرڈیننس نمبرV/1979)کے مطابق عمارات کو تعمیرات کیلئے نقشے پاس کرنے، ان نقشوں کے مطابق عمارات کی تعمیر کو یقینی بنانے کا کام کرتا ہے اور اس کے بعد کراچی بلڈنگ اینڈ ٹائون پلاننگ ریگولیشن 2002کے مطابق عمارت کے کام کی نگرانی اور کنٹرول کرنا اور بعد از تعمیر ملکیتی سرٹیفیکیٹ جاری کرنا ہے کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی اور کی جارہی ہے، مزید تفصیلات کل کے شمارے میں شائع کی جائیں گی۔

غیر قانونی تعمیرات عروج پر، ملٹی اسٹوریز بلڈنگز نے علاقے میں پارکنگ کے مسائل، مین روڈ پر ٹریفک جام معمول بن گیا  کچی آبادی میں بھی ملٹی اسٹوری بلڈنگز تعمیر،ایس بی سی اے کا عملہ بھاری رشوت لیکر خاموش تماشائی بن گیا،کچی آبادی میں غیر قانونی تعمیرات پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ ایکشن لینے سے قاصر  کراچی(رپورٹ٭ایم اے ساحل)گلشن اقبال ٹائون میں سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں،غیر قانونی تعمیرات عروج پر، ملٹی اسٹوریز بلڈنگز نے علاقے میں پارکنگ کے مسائل، مین روڈ پر ٹریفک جام معمول بن گیا،کچی آبادی میں بھی ملٹی اسٹوری بلڈنگز تعمیر،ایس بی سی اے کا عملہ بھاری رشوت لیکر خاموش تماشائی بن گیا،کچی آبادی میں غیر قانونی تعمیرات پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ ایکشن لینے سے قاصر،تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال ٹائون میں سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئیں،غیر قانونی تعمیرات عروج پر، ملٹی اسٹوریز بلڈنگز نے علاقے میں پارکنگ کے مسائل پیدا کر دیئے، جس کی وجہ سے مین روڈ پر ٹریفک جام معمول بن گیا کچی آبادی میں بھی ملٹی اسٹوریز بلڈنگز تعمیر ہورہی ہیں جس پر ڈپٹی کمشنر ایسٹ ایکشن نہیں لے رہے، .1پلاٹ نمبرA-101+102گلشن اقبال بلاک 13-Dضلع شرقی کراچی میںرہائشی پلاٹ پر چار منزلہ فلیٹ ٹائپ یونٹ تعمیر کئے جارہے ہیں،علاقہ کچی آبادی کا حصہ ہونے کے باوجود یہاں کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر باعث تشویش ہے ،پلاٹ نمبرR-5بلاک 13.2 ڈی گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی پر رہائشی پلاٹ پر چار منزلہ فلیٹ ٹائپ یونٹ تعمیر کئے جارہے ہیں،علاقہ کچی آبادی کا حصہ ہونے کے باوجود یہاں کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر باعث تشویش ہے ، A-80.3 بلاک 13ڈی ون دو منزلہ ملٹی یونٹ رہائشی پلاٹ پر تعمیر ہورہے ہیں،جو کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے،.4پلاٹ نمبرA-49بلاک 13-D-1گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںغیر قانونی طور پر رہائشی پلاٹ پر فلور ڈال کر فلیٹ یونٹس بنائے جارہے ہیں  اور مسلسل غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں،.5پلاٹ نمبرA-7بلاک 13/D-2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںرہائشی پلاٹ پر تیسرا فلور غیر قانونی طور پر ڈالا جارہاہے جس میں ملٹی یونٹس ہیں ،.6پلاٹ نمبرR-31بلاک 13-Dگلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںرہائشی پلاٹ پر غیر قانونی طور پر تین منزلہ ملٹی یونٹس تعمیر کر دیئے گئے ہیں،.7پلاٹ نمبر1-47بلاک 13/Dگلشن اقبال ضلع شرقی کراچی میںدو منزلہ غیر قانونی طور پرملٹی یونٹ تعمیرات کی گئی جبکہ تیسرا فلور زیر تعمیر ہے،.8پلاٹ نمبرA-90بلاک 13/Dگلشن  اقبال ضلع شرقی کراچی میںدو منزلہ غیر قانونی طور پرملٹی یونٹ تعمیرات کی گئی جبکہ تیسرا فلور زیر تعمیر ہے،.9پلاٹ نمبرA-88بلاک 13-Cگلشن اقبال ضلع شرقی کراچی،میںغیر قانونی طور پرملٹی یونٹ تعمیرات کی گئی جبکہ تیسرا فلور زیر تعمیر ہے،جبکہ ملٹی اسٹوریز بلڈنگ میں.1ایف ایل 2بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی (چیس اپ میں غیر قانونی طور پر سڑک بلاک کی ہوئی ہے جس کی بابت سپریم کورٹ آرڈر کر چکی ہے،اس بلڈنگ میں بیسمنٹ جو کہ پارکنگ کیلئے مختص تھی اسے گودام بنایا گیا ہے).2سی 6بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(کنگز اسکائی نامی دس منزلہ غیر قانونی عمارت میں ایس بی سی اے نے پانچ شوروم پاس کئے تھے مگر تقریبا سو سے زائد دکانیں تعمیر کی گئی ہیں،جبکہ قوانین کے مطابق دکان کا سائز 10x10ہونا چاہئے بلڈرز نے افسران سے مل کر دکان کے سائز چھوٹے کر دیئے اور موبائل مارکیٹ بنا دی ہے).3سی 8بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(گلیکسی موبائل مارکیٹ نامی دس منزلہ غیر قانونی عمارت میں ایس بی سی اے نے پانچ شوروم پاس کئے تھے مگر تقریبا سو سے زائد دکانیں تعمیر کی گئی ہیں،جبکہ قوانین کے مطابق دکان کا سائز 10x10ہونا چاہئے بلڈرز نے افسران سے مل کر دکان کے سائز چھوٹے کر دیئے اور موبائل مارکیٹ بنا دی ہے).4سی 7بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(تین منزلہ غیر قانونی عمارت بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے عملے کے تعاون سے بغیر نقشے کے بنائی گئی ہے جس میں 125سے زائد دکانیں تعمیر کی گئی ہیں اور اسے بھی موبائل مارکیٹ بنایا گیا ہے).5سی 9بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(چار منزلہ پرانی عمارت پر غیر قانونی طور پر بیسمنٹ اور گرائونڈ فلور پر سو سے زائد دکانیں بنا کر موبائل مارکیٹ کھول دی گئی ہے جس کا نام فریحہ موبائل مال رکھا گیا ہے.6سی 12بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(گیارہ منزلہ عمارت کی تعمیر میں قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے موبائل مارکیٹ آئی ڈیل کے نام سے بنائی گئی ہے جس میں سو سے زائد دکانیں بنائی گئی ہیں جبکہ عمارت کی تعمیر نقشے کے برعکس کی گئی ہے).7سی 13بلاک 2گلشن اقبال ضلع شرقی کراچی(بارہ منزلہ عمارت جس میں ایک فلور غیر قانونی ہے اور پانچ دکانیں نقشے کے مطابق بنانی تھیں مگر ڈیڑھ سو سے زائد دکانیں بنا چکا ہے اور مزید زیر تعمیر ہے)کثیر المنزلہ عمارات کے باعث ٹریفک جام روز کا معمول ہے،؛  معزز عدلیہ بار بار غیر قانونی تعمیرات کے لئے اپنے فیصلوں میں انہدامی،  سیل و سربمہر کی کاروائیوں کا  حکم نامہ جاری فرما چکی ہے جبکہ محکمہ جاتی کاروائیاں بھی کی جاتی ہیں ، لیکن چند منٹوں یا گھنٹوں کے بعد تعمیراتی کام دن رات میں اور تیزی سے مکمل کردئیے جاتے ہیں،  مزے کی بات یہ ہے کہ جو افراد ان غیر قانونی پورشنز ، 	یونٹس کی بکنگ کرواتے ہیں جان بوجھ کر ان میں رہائش کرلیتے ہیں بعد از ان عدالتی احکامات پر بلاوجہ احتجاج کرنے پر اتر آتے ہیں اور عورتوں اور بچوں کو  سڑکوں پر لے آتے ہیں، جبکہ منہدم ہونے والی بلڈنگز کے بارے میں سب کچھ جان کر بھی نادان بن جاتے ہیں، گلشن اقبال بلاک 2 میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین،جس کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979(سندھ آرڈیننس نمبرV/1979)کے مطابق عمارات کو تعمیرات کیلئے نقشے پاس کرنے، ان نقشوں کے مطابق عمارات کی تعمیر کو یقینی بنانے کا کام کرتا ہے اور اس کے بعد کراچی بلڈنگ اینڈ ٹائون پلاننگ ریگولیشن 2002کے مطابق عمارت کے کام کی نگرانی اور کنٹرول کرنا اور بعد از تعمیر ملکیتی سرٹیفیکیٹ جاری کرنا ہے کی مسلسل خلاف ورزی کی گئی اور کی جارہی ہے، مزید تفصیلات کل کے شمارے میں شائع کی جائیں گی۔